خیبرپختونخوا اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں حکومتی رکن پختون یار نے صوبائی بجٹ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ بجٹ کے حق میں ووٹ بھی دیں گے، تاہم جہاں کوتاہیاں اور خامیاں موجود ہیں وہاں ان کی نشاندہی کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے پختون یار نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ کی مجموعی طور پر حمایت کرتے ہیں اور اس کی منظوری کے لیے ووٹ بھی دیں گے، لیکن عوامی نمائندے ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ بجٹ میں موجود کمزوریوں اور عوامی مسائل کی نشاندہی کریں۔
انہوں نے ضلع بنوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے مسائل اور صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز کے باعث وہاں طبی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
پختون یار نے اپنے بارے میں گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ حکومت سے ناراض ہیں، تاہم ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہ تو ناراض ہیں اور نہ ہی کسی فارورڈ بلاک کا حصہ ہیں۔
انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے نافذ کی گئی تعلیمی ایمرجنسی پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ان کے حلقے میں تعلیمی اداروں کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ ہے تو پھر ان کے علاقے کے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کی حالت بہتر کیوں نہیں ہو سکی۔
حکومتی رکن نے اپنے حلقے کی ترقیاتی اسکیموں کو بجٹ میں مناسب اہمیت نہ دیے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، جس سے عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔
پختون یار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں کی تقسیم میں تمام حلقوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان کے حلقے کی متعدد اسکیموں کو نظر انداز کیوں کیا گیا اور ان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔
اسمبلی اجلاس میں ان کی تقریر کو حکومتی بینچوں کے اندر موجود تحفظات اور عوامی مسائل کی نشاندہی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ انہوں نے حکومت کی حمایت برقرار رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں مزید توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔