احتجاجی خواتین منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی شرافت علی خان کے حجرے اور گھر کے باہر جمع ہوئیں اور متاثرہ بچی کیلئے انصاف کا مطالبہ کیا
سوات)بیورورپورٹ(سوات کے علاقے مدین میں 9 سالہ بچی ایشمل کے مبینہ زیادتی اور قتل کے واقعے کے خلاف خواتین نے شدید احتجاج کیا۔
احتجاجی خواتین منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی شرافت علی خان کے حجرے اور گھر کے باہر جمع ہوئیں اور متاثرہ بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا
مظاہرین نے ایشمل کو انصاف دو کے نعرے لگاتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ بچی کے قتل کے مقدمے کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر چلایا جائے اور ملوث ملزم کو قانون کے مطابق سخت اور عبرتناک سزا دی جائے
احتجاج میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد علاقے کے منتخب رکنِ اسمبلی کی جانب سے تاحال کوئی واضح موقف یا مذمت سامنے نہیں آئی، جبکہ متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھی ان کی شرکت نظر نہیں آئی، جس پر انہیں شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
مظاہرین نے کہا کہ معصوم بچوں کے خلاف ایسے سنگین جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایشمل کے خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور مقدمے کی شفاف تحقیقات مکمل کرکے ذمہ دار کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
علاقے کے عمائدین نے بھی خواتین کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افسوسناک واقعات پر عوامی نمائندوں کو متاثرہ خاندان اور عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایشمل کیس میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔