مسلم لیگ (ن) ملاکنڈ ڈویژن کے اجلاس میں صوبائی اور وفاقی سطح پر ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں عائد تمام ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سمیت پارٹی کے ڈویژنل رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے خلاف جاری تمام پرامن احتجاجی تحریکوں کی مکمل حمایت کی جائے گی اور صوبائی حکومت اپنے نافذ کردہ ٹیکس فوری واپس لے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ 2016 میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے کسٹم ایکٹ سے متعلق قرارداد وفاق کو بھجوائی تھی، تاہم ان کی کوششوں سے یہ قانون نافذ نہیں ہونے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے مطالبے کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ واپس لیا گیا۔
امیر مقام نے کہا کہ 2018 میں فاٹا انضمام کے موقع پر پاٹا ابتدائی طور پر ٹیکس استثنیٰ میں شامل نہیں تھا، تاہم ان کی کاوشوں سے پاٹا کو بھی پانچ سالہ ٹیکس رعایت دی گئی، جس سے ملاکنڈ ڈویژن کو فائدہ پہنچا۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران انہوں نے ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ اور ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف مسلسل جدوجہد کی، حتیٰ کہ فنانس بل کی منظوری کے دوران قومی اسمبلی سے واک آؤٹ بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملاکنڈ ڈویژن کو ملک کے دیگر علاقوں کی طرح بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبے، روزگار اور مکمل امن فراہم کیا جائے تو ٹیکس پر بات ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ حالات میں نہ وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت کو یہاں نئے ٹیکس نافذ کرنے چاہییں۔
امیر مقام نے مزید کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے ملک میں امن و استحکام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان پر مزید مالی بوجھ ڈالنا مناسب نہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی جانب سے ٹیکسوں کے خلاف ہر پرامن احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس واپس لے کر پہلے عوام کو ترقی، امن، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔