ضلع باجوڑ کے علاقے قذافی بانڈاگئی گاؤں میں زہریلی خوراک کھانے کے باعث پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ایک ہی خاندان کے تین بچے جاں بحق جبکہ آٹھ افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان نے گھر میں تیار کی گئی یا استعمال کی جانے والی مبینہ زہریلی خوراک کھائی، جس کے کچھ ہی دیر بعد خاندان کے تمام افراد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ متاثرین کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز اور ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، تاہم تین بچوں کی جان نہ بچائی جا سکی۔
اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو بچیاں اور ایک بچہ شامل ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی جبکہ اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان کے دیگر آٹھ افراد کو تشویشناک حالت میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیمیں ان کے علاج اور جان بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین کو خصوصی طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام حرکت میں آ گئے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے خوراک کے نمونے حاصل کر لیے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خوراک میں زہریلے مادے کی موجودگی کی وجہ کیا تھی اور آیا یہ واقعہ حادثاتی تھا یا کسی اور سبب کے باعث پیش آیا۔
مقامی افراد نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کو جلد مکمل کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور متاثرہ خاندان کو ہر ممکن طبی اور مالی امداد فراہم کی جائے۔
حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے اور لیبارٹری رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجوہات اور زہریلی خوراک کی نوعیت کے بارے میں حتمی معلومات جاری کی جائیں گی۔ اس المناک واقعے نے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور لوگ متاثرہ خاندان کے افراد کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔