پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات اور ان کی منظوری کے بغیر وفاقی بجٹ کی حمایت نہیں کی جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف بجٹ اس وقت تک پاس نہیں کرے گی جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی اور وہ بجٹ کے حوالے سے اپنی ہدایات جاری نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کے تمام تر دعوؤں کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت مستحکم ہے اور کوئی بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے معاملے پر حکومتی نمائندوں سے رابطہ کیا تھا۔ ان کے مطابق حکومتی حلقوں کی جانب سے بتایا گیا کہ چونکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی عمران خان سے ملاقات کی شرط رکھی ہے، اس لیے ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، تاہم بعد ازاں حکومت کی جانب سے مزید کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے اپنے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات ان کی کسی بھی شخصیت سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں تاکہ کشمیر اور بجٹ جیسے اہم قومی معاملات سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔
انہوں نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے آغاز میں اپنی تقریر کے دوران ان کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات موجود ہیں اور اس حوالے سے بعد میں بات کی جائے گی، تاہم بعد میں یہ حصہ سرکاری ریکارڈ سے نکال دیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اس بیان کے بعد وفاقی بجٹ، عمران خان سے ملاقات اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ چند روز میں بجٹ کی منظوری اور عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت سیاسی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔