وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیر صدارت پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی پی ڈی اے کا 14واں اتھارٹی اجلاس منعقد ہوا جس میں شہری ترقی، نظم و نسق اور مختلف انتظامی و ترقیاتی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں مالی سال 2025 26 کے بجٹ سمیت دیگر متعدد امور کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی اور شہری نظم و ضبط کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ شہر میں منظم اور مربوط ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں ناصر باغ روڈ کو پی ڈی اے کے دائرہ اختیار میں شامل کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا گیا جبکہ اس کی حتمی منظوری کے لیے معاملہ کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ مزید برآں ناصر باغ روڈ کے اطراف عمارتوں کا فاصلہ 20 فٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ عوام کو ممکنہ تکلیف سے بھی بچایا جائے۔ اسی طرح مذکورہ روڈ پر بلڈنگ کنٹرول اور ریگولیٹری نظام نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز کے لیے اضافی اراضی کی الاٹمنٹ اور ری پلاننگ کی منظوری دی گئی۔ مزید برآں باغ ناران اور شالمان پارک میں مجوزہ تفریحی منصوبوں کو ختم کرنے اور جمع شدہ سیکیورٹی رقم کی واپسی کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے عوامی خدشات اور عدالتی احکامات کے پیش نظر پارکس کو کمرشل استعمال سے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ عوامی مفاد اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اجلاس میں ایف سی ٹیچنگ ہسپتال کے لیے حیات آباد سے خصوصی رسائی راستہ تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ سی ٹی ڈی کے ریجنل ہیڈکوارٹرز کے قیام کے لیے حیات آباد میں اراضی مختص کرنے کی بھی منظوری دی گئی جس کا مقصد سیکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اجلاس میں نجی موبائل نیٹ ورک کے 16 بی ٹی ایس ٹاورز کی لیز میں مزید چھ سال کے لیے توسیع کی منظوری دی گئی تاکہ ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ علاوہ ازیں غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کے باعث منسوخ شدہ 171 پلاٹس کی بحالی کے لیے ایک مرتبہ رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا جو واجبات کی ادائیگی اور خلاف ورزیوں کے خاتمے سے مشروط ہو گا۔ اس ضمن میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پلاٹس کی بحالی کے لیے بقایاجات کی ادائیگی کے ساتھ درخواستیں بمعہ چارجز 30 جون تک جمع کرائی جائیں۔ پی ڈی اے ملازمین کی پروموشن کے لیے کمیٹی کی سفارشات کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ شکایات کے ازالے کے لیے ایک علیحدہ کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ملازمین اپنی شکایات دس دن کے اندر کمیٹی کے سامنے پیش کر سکتے ہیں تاکہ شفاف اور بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ اجلاس میں حیات آباد ٹاؤن کو گیٹڈ کمیونٹی بنانے کے لیے باؤنڈری وال اور جدید سرویلنس سسٹم کی تجویز پر بھی غور کیا گیا جس پر وزیر اعلیٰ نے باضابطہ پلان طلب کر لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کا مقصد حساس علاقوں کی سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور ٹاؤن میں غیر ضروری ٹریفک کی روک تھام ہے۔ مزید برآں اجلاس میں پی ڈی اے کے لیے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے قیام اور پراپرٹی ڈیلرز کی رجسٹریشن کے لیے ایس او پیز کی منظوری دی گئی تاکہ ریگولیٹری نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ آخر میں ریگی ماڈل ٹاؤن میں پیٹرول پمپ اور کمرشل سائٹ جبکہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سامنے کمرشل اراضی کی ری پلاننگ کی بھی منظوری دی گئی۔
<><><><><><>