وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظریے کیلئے جیل اور کرپشن میں جیل جانے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کو اپنا آئینی حق سمجھتے ہیں تاہم اس سلسلے میں تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوریت کیلئے قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بعد کے ادوار میں ان کے جانشین جمہوری اقدار کو برقرار نہ رکھ سکے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی بعض آئینی ترامیم کے ذریعے جمہوریت کو کمزور کیا۔
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ نامزد ہوتے ہی ان کے خلاف منظم مہم شروع کی گئی جو دراصل پورے صوبے کی توہین ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مختلف اداروں کو خطوط لکھے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز نے ملاقات کی اجازت دی لیکن اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے ان احکامات کو مسترد کر دیا، جو کہ آئین و قانون پر سوالیہ نشان ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آج اگر ایک جیل افسر عدالت کے احکامات نہیں مانتا تو کل کسی بھی جماعت کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیرقانونی قید میں رکھا گیا ہے اور انہیں صحت سمیت سنگین مسائل کا سامنا ہے، جبکہ اہل خانہ اور ذاتی ڈاکٹروں سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان پر دباؤ ڈالنے کیلئے بشریٰ بی بی کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے، جبکہ ماضی میں سیاسی قیدیوں کو ایسی پابندیوں کا سامنا نہیں رہا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تمام آئینی راستے بند کر دیے جائیں تو احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بہترین اسپتال میں ذاتی ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے مفاد میں انہوں نے 9 اپریل کا جلسہ منسوخ کیا اور وفاقی حکومت کے اجلاسوں میں بھی شرکت کی، مگر اس کے باوجود ان کے قائد کی بہنوں پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حقیقی آزادی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی، آئین و جمہوریت کی بالادستی کیلئے جدوجہد جاری رہے گی اور عمران خان و بشریٰ بی بی کی رہائی تک تحریک جاری رکھی جائے گی۔