پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے پولیس کی ناقص اور کمزور تفتیش پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ “پولیس والے کام کیوں نہیں کرتے، اب عدالت آپ لوگوں کو سکھائے گی کہ تفتیش کیسے کی جاتی ہے۔”
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پولیس کی کارکردگی صفر ہے اور اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو آئی جی پولیس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم عوام کے ٹیکس پر تنخواہیں لیتے ہیں، ان پر کوئی احسان نہیں کر رہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔”
یہ ریمارکس تھانہ انقلاب کی حدود سے لاپتہ ہونے والے شہری امین اکبر کی بازیابی کے لیے دائر رٹ درخواست کی سماعت کے دوران دیے گئے۔ سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سنگل رکنی بینچ نے کی، جس میں درخواست گزار کے وکیل، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، لاپتہ افراد کے فوکل پرسن اور پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل تھانہ انقلاب کے علاقے سے لاپتہ ہوئے ہیں اور تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کس نے اور کیوں اغوا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ سے مایوس ہونے کے بعد عدالت سے رجوع کیا گیا تاکہ اہلِ خانہ کو کم از کم یہ معلوم ہو سکے کہ لاپتہ شخص کہاں ہے۔
عدالت نے پولیس سے کیس میں پیش رفت کے بارے میں استفسار کیا تو بتایا گیا کہ تحقیقات جاری ہیں، جس پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اب تک تفتیش کیوں مکمل نہیں ہوئی؟ لاپتہ شخص کی آخری بار کس سے بات ہوئی، ان سے تفتیش کیوں نہیں کی گئی؟ 9 دن میں صرف سی ڈی آر حاصل کی گئی، یہ کیسی تفتیش ہے؟”
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ “علاقے سے بندہ غائب ہو جاتا ہے اور ایس ایچ او کو پتہ نہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟ 15 دن کے ریمانڈ میں بھی پولیس کو معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہوا، آپ لوگوں نے عوام کو خوار کر دیا ہے۔”
عدالت نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ لاپتہ شخص کے تمام روابط کی مکمل تفتیش کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ کیس کی مزید سماعت 27 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے جبکہ پولیس سے آئندہ پیشی پر پیش رفت رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔