امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار دیتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کو سراہا ہے۔امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کے رپورٹر سے گفتگو میں ٹرمپ نے کا کہ آپ وہیں رہیں کیونکہ آئندہ دو دن میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ ممکن ہے کیونکہ فیلڈ مارشل بہترین کام کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی کارکردگی کے باعث امریکا مذاکرات کے لیے دوبارہ پاکستان جانے پر غور کر رہا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ نے ابتدا میں اخبار کے رپورٹر سے گفتگو میں مذاکرات کے لیے امریکی وفد کے پاکستان جانے کی تردید کی تھی تاہم کچھ دیر بعد ہی ٹرمپ نے دوبارہ فون کرکے پاکستان میں مذاکارت کے آئندہ دور کے حوالے سے اشارہ دیا۔خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جلد اسلام آباد میں ہونے کی خبریں تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔اس سے قبل ایرانی حکام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، دوسری طرف کا معلوم نہیں، مذاکرات کا دوسرا دور ہو تو پاکستان ہماری ترجیح ہے۔واضح رہے کہ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود رواں ہفتے امن مذاکرات کے لیے دوبارہ اسلام آباد آسکتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے اہلکار نے بھی رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دوراس ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں ہوسکتا ہے۔پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے ایران اور امریکہ کو پھر دعوت دے دی ۔سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے مذاکرات کیلئے اسلام آباد کو بہترین آپشن قرار دے دیاہے، آئندہ ہفتے اس حوالے سے پاکستان کو فریقین سے مثبت جواب ملنے کی امیدہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اپنی ثالثی میں مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران معاہدہ اسلام آباد پر بھی دستخط کا خواہاں ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جلد اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود رواں ہفتے امن مذاکرات کے لیے دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں۔پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بھی رائٹرز سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات کا اگلا دور اسی ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔اس سے قبل بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اہم پیشکش کرتے ہوئے یورینیم افزودگی کو 5 سال کے لیے معطل کرنے کی تجویز دی ہے ۔نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے حکام کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران جوہری سرگرمیوں کی معطلی سے متعلق مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ ایران نے یورینیم افزودگی کو 5سال کے لئے معطل کرنے کی تجویز دی ہے تاہم امریکا نے اس تجویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے 20 سالہ معطلی پر زور دیا۔ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے طویل المدتی معطلی کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ ایران نے محدود مدت یعنی پانچ سال تک افزودگی روکنے کی پیشکش کی، جس پر دونوں فریقین کے درمیان اختلاف برقرار رہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اختلافات کے باعث مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، تاہم بات چیت کا عمل جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جلد اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود رواں ہفتے امن مذاکرات کے لیے دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں۔پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بھی رائٹرز سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات کا اگلا دور اسی ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔اس سے قبل بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، جہاں دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ملک کو تقریبا 270 ارب ڈالرز کا بھاری نقصان پہنچا ہے۔ یہ بات ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ایک بیان میں بتائی۔روسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ یہ تخمینہ براہِ راست اور بالواسطہ دونوں طرح کے نقصانات کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، معیشت اور دیگر شعبوں کو پہنچنے والے اثرات شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ ایران کے لیے ایک اہم معاملہ ہے، جسے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات میں بھی اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق ہرجانے کا مطالبہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی شرائط میں شامل ہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے انتونیو گوتریس کے نام ایک خط میں خلیجی ممالک، جن میں قطر، سعودی عرب، بحرین، امارات اور کویت شامل ہیں، سے بھی جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مقف خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ مذاکراتی عمل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔