پاکستان نے اتوار کے روز پاکستان-ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا باضابطہ آغاز کر دیا، جس کے تحت پہلی برآمدی کھیپ کراچی سے ازبکستان کے شہر Tashkent روانہ کر دی گئی۔
24 نیوز ایچ ڈی کے مطابق افتتاحی کھیپ میں منجمد گوشت شامل ہے، جو Karachi سے روانہ ہوئی۔ یہ نیا تجارتی راستہ پاکستانی برآمد کنندگان کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد زمینی متبادل فراہم کرے گا۔
اس موقع پر کراچی میں ایک افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں کسٹمز حکام اور لاجسٹکس کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس اقدام کو پاکستان، Iran اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
نئے انتظام کے تحت سامان ایران کے راستے ٹی آئی آر (TIR) ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا، جس سے سرحد پار نقل و حمل مزید آسان ہو گی اور روایتی راستوں میں پیش آنے والی تاخیر میں کمی آئے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوریڈور برآمد کنندگان کے لیے تیز تر اور کم لاگت ترسیل کا عملی حل ثابت ہوگا، جبکہ اس سے ٹرانزٹ ٹائم میں نمایاں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف پاکستانی برآمدات کو نئی منڈیاں ملیں گی بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔ پہلی کھیپ کی کامیاب روانگی کو پاکستان کی جانب سے اپنے تجارتی نیٹ ورک کو وسعت دینے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا واضح اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔