پشاور: گندف مہاجر کیمپ میں دو افغان مہاجر نوجوانوں کی شادی ایک انوکھی اور یادگار مثال بن گئی، جہاں خوشی اور غم ایک ساتھ دیکھنے کو ملے۔ طے شدہ تاریخ کے مطابق شادی کی تمام تقریبات مکمل ہوئیں، تاہم دونوں دولہے جیل میں ہونے کے باعث اس خوشی میں شریک نہ ہو سکے۔
تفصیلات کے مطابق دولہوں نعمت اللہ اور اکرام کا تعلق صوبہ لوگر سے ہے جبکہ دلہنوں کا تعلق جلال آباد سے بتایا گیا ہے۔ دونوں خاندانوں نے رمضان المبارک سے قبل ہی شادی کی تاریخ مقرر کر رکھی تھی اور باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ شادی کی تقریبات مہاجر کیمپ میں ہی انجام دی جائیں، کیونکہ افغانستان واپسی کے بعد مالی اور سفری مشکلات کے باعث شادی ممکن نہ رہتی۔
تاہم خوشیوں بھرا یہ موقع اس وقت غم میں بدل گیا جب کریک ڈاؤن برائے غیر قانونی مقیم غیر ملکی کے دوران دونوں نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس غیر متوقع صورتحال کے باوجود دونوں خاندانوں نے حوصلہ رکھتے ہوئے دولہوں کی غیر موجودگی میں ہی شادی کی تمام رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
گزشتہ روز مہاجر کیمپ میں بارات، دلہنوں کی رخصتی اور یہاں تک کہ ولیمہ کی تقریب بھی دولہوں کے بغیر ہی منعقد کی گئی۔ تقریب میں شریک افراد نے اس واقعے کو ایک منفرد اور جذباتی لمحہ قرار دیا، جہاں ایک طرف شادی کی خوشیاں تھیں تو دوسری جانب دولہوں کی غیر موجودگی کا غم نمایاں تھا۔
اس موقع پر دونوں خاندانوں کے بزرگوں نے حکومت سے اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دونوں نوجوانوں کو رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز کر سکیں اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ افغانستان منتقل ہو سکیں۔