راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک کی داخلی و خارجی سلامتی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کانفرنس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادرِ وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے شہری شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے شہدائ کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں پاکستان کی قومی سلامتی کی بنیاد ہیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل کارکردگی اور دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری کارروائیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، افواجِ پاکستان اور عوام کے باہمی تعاون سے ملک میں امن و استحکام، معاشی مضبوطی اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار میں اضافہ ہو رہا ہے۔فورم نے واضح کیا کہ بھارت اور دیگر بیرونی عناصر کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں، ان کے سہولت کاروں اور معاونین کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آپریشن” غضب اللحق) اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم نہیں ہو جاتے اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتا۔کور کمانڈرز کانفرنس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستانی حکومت کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور مذاکرات، تحمل اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ فورم نے پاکستان کو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک ذمہ دار کردار قرار دیا۔کانفرنس میں سعودی عرب کی پیٹروکیمیکل اور صنعتی تنصیبات پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت بھی کی گئی۔ فورم نے کہا کہ یہ حملے امن کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ فورم کے مطابق سعودی عرب نے اب تک تحمل اور تدبر کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملی۔فورم نے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات، گمراہ کن پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ایسے دعوے اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔ کانفرنس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ حالیہ جعلی مقابلوں کو ماورائے عدالت قتل چھپانے کی کوشش قرار دیا گیا۔اختتامی خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری، پیشہ ورانہ معیار اور عملی استعداد برقرار رکھیں تاکہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع یقینی بنایا جا سکے۔