ایشیائی ترقیاتی بینک نے خیبرپختونخوا کے سات بڑے شہری مراکز میں ماحول دوست اور کم اخراج والی پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کے قیام کے لیے 20کروڑ امریکی ڈالر قرض دینے کی سفارش کردی ہے جسے صوبے میں شہری نقل و حمل کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے تحت پشاور، مردان، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ، ایبٹ آباد اور مینگورہ (سوات) میں جدید گرین پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک قائم کیا جائے گا جہاں اس وقت باقاعدہ اور منظم شہری ٹرانسپورٹ کا نظام یا تو موجود نہیں یا انتہائی محدود ہے۔منصوبے کا بنیادی مقصد شہری آبادی کو محفوظ، سستی اور قابل رسائی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے جبکہ کم اخراج والی گاڑیوں کے استعمال کے ذریعے فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لانا بھی اس کا اہم ہدف ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ شہریوں کے معیارِ زندگی میں بھی بہتری متوقع ہے۔دستاویز کے مطابق مجموعی 20 ملین ڈالر قرض میں سے 15 کروڑ ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک کے عام مالی وسائل سے فراہم کیے جائیں گے جبکہ 5 کروڑ ڈالر رعایتی بنیادوں پر دیے جائیں گے جس سے منصوبے کے مالی بوجھ کو کم رکھنے میں مدد ملے گی۔منصوبے کے تحت خواتین کی پبلک ٹرانسپورٹ میں شرکت کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے محفوظ اور صنفی لحاظ سے حساس سفری سہولیات متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ خواتین کی معاشی اور سماجی سرگرمیوں میں شرکت کو فروغ دیا جا سکے۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی تصوراتی منظوری 12 ستمبر کو متوقع ہے اس منصوبے پر عملدرآمد خیبرپختونخوا اربن موبلٹی اتھارٹی کے ذریعے کیا جائے گا جو صوبے میں شہری ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ذمہ دار ہے۔