پاکستان اور افغان عبوری حکومت کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر آج چین کے شہر ارمچی میں دونوں فریقین کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقات متوقع ہے، جس میں تعلقات کو معمول پر لانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا فیصلہ چین کے خصوصی نمائندے کے حالیہ دوروں کے دوران کیا گیا، جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان شٹل ڈپلومیسی کی، اس عمل کے دوران فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ماضی میں تین مختلف ممالک میں ہونے والی ملاقاتوں کی روشنی میں ایک “ڈی اسکیلیشن لیڈر” یعنی کشیدگی کم کرنے کا مرحلہ وار لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔
پاک افغان مزاکرات کے ذریعے کشیدگی میں کمی کے حوالے سے ہونیوالی اس پیش رفت کی تصدیق پاکستان کے دو اعلیٰ حکام اور افغان طالبان کے ایک نمائندے نے بھی کی ہے، جو اس عمل میں براہ راست شامل ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کو جان بوجھ کر کم تشہیر دی جا رہی ہے اور اسے اس وقت تک منظر عام پر نہیں لایا جائے گا جب تک کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آتا۔
باخبر ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس مرحلے پر محتاط سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو قبل از وقت میڈیا کی توجہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب جب دونوں ممالک کے حکام سے اس عمل کے حوالے سے توقعات اور ممکنہ نتائج کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی باضابطہ ردعمل دینے سے گریز کیا، جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ مذاکرات کا عمل ابھی ابتدائی اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔