چارسدہ۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رفعت اللہ نے سٹی پولیس اسٹیشن میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ چارسدہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھر سے اغوا ہونے والی لڑکی طیبہ کو ہنگو سے بحفاظت بازیاب کر لیا، جبکہ واقعے میں ملوث تین نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈی پی او رفعت اللہ کے مطابق 10 ستمبر کو طیبہ کو گھر سے مبینہ طور پر اسلحہ کے زور پر زبردستی اغوا کیا گیا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں خاندانوں کے درمیان رشتے کا تنازعہ چل رہا تھا، جبکہ ملزمان کی جانب سے پہلے لڑکی کا رشتہ مانگا گیا تھا،تاہم انکار پر اسے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔
ڈی پی او نے بتایا کہ مغوی لڑکی کی بازیابی کے لیے چارسدہ پولیس کی چار مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، جنہوں نے جدید تفتیشی طریقوں اور مربوط کارروائی کے ذریعے لڑکی کو ہنگو سے بازیاب کرایا۔
رفعت اللہ نے کہا کہ بچی نے اغوا کاروں کے سامنے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزاحمت کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ چارسدہ میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں، خواتین کی عزت و آبرو اور جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
ڈی پی او کا کہنا تھا کہ کسی بھی نوعیت کے جرم میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی اور پولیس کی کارروائیوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ محسوس کریں۔