پشاور ضلع میں 2لاکھ 22ہزار 614افراد ایسے ہیں جو نقل مکانی کر کے یہاں آباد ہوئے جن میں 1لاکھ 63ہزار 746افراد صوبے کے دیگر اضلاع سے منتقل ہوئے ہیں، سرکاری رپورٹ
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں امن و امان، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے مسائل کے باعث اندرون صوبہ آبادی کی پشاور کی جانب منتقلی نے صوبائی دارالحکومت پر آبادی کا دبا نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے
سرکاری مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق پشاور خیبر پختونخوا میں اندرون صوبہ ہجرت کا سب سے بڑا مرکز بن کر سامنے آیا ہے
2023کی مردم شماری کے مطابق پشاور ضلع میں 2 لاکھ 22ہزار 614افراد ایسے ہیں جو نقل مکانی کر کے یہاں آباد ہوئے جن میں 1لاکھ 63ہزار 746افراد صوبے کے دیگر اضلاع سے منتقل ہوئے
یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ پشاور صرف صوبے کا انتظامی مرکز ہی نہیں بلکہ روزگار، تعلیم، علاج اور بہتر سہولیات کی تلاش میں آنے والوں کیلئے سب سے بڑا شہری مرکز بھی بن چکا ہے
اعداد و شمار کے مطابق اندرونِ صوبہ نقل مکانی میں سابق قبائلی اضلاع سمیت خیبر، مہمند، باجوڑ، کرم، اورکزئی، شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاوہ سوات، دیر، چترال، شانگلہ، بونیر، کوہستان، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، ہنگو، مردان، چارسدہ اور صوابی جیسے اضلاع سے آنے والی آبادی بھی پشاور کے شہری پھیلا ئومیں شامل ہوئی ہے
ماہرین کے مطابق پشاور کی طرف بڑھتی ہوئی آبادی کا دبا رہائش، ٹریفک، پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور روزگار سمیت تقریبا ہر شہری شعبے پر اثر انداز ہو رہا ہے
2023کی مردم شماری میں پشاور ضلع کی آبادی 47لاکھ 58ہزار 762ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ صوبائی رپورٹ کے مطابق اندرون صوبہ نقل مکانی کا سب سے بڑا تناسب بھی پشاور میں ریکارڈ ہوا۔