آئندہ چند روز کے دوران مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے، جس کے اعلانات ہوتے ہی اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی بین الصوبائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ممکنہ قلت اور قیمتوں میں اضافے سے بچنے کے لیے پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے تاجروں اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے ضروری سامان کی اضافی مقدار منگوا کر ذخیرہ کرنا شروع کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف تنظیموں کی جانب سے ستمبر میں لانگ مارچز کے اعلانات کے بعد تاجروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
اعلانات کے مطابق 20 ستمبر جماعت اسلامی، 22 ستمبر آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی، 25 ستمبر کسان تنظیمیں اور 27 ستمبرکو پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچز کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں تاجر برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں خوراک سمیت مختلف ضروری اشیاء کی بڑی مقدار پنجاب سے آتی ہے۔
موٹروے یا جی ٹی روڈ کی بندش کی صورت میں بین الصوبائی سپلائی کا نظام متاثر ہو سکتا ہے، جس کے باعث خوراک، سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر لانگ مارچز کے دوران صوابی کے مقام پر موٹروے یا اٹک کے مقام پر جی ٹی روڈ بند ہوگئی تو پنجاب سے خیبر پختونخوا آنے والے سامان کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں مارکیٹ میں بعض اشیاء کی ممکنہ قلت پیدا ہونے اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ممکنہ سپلائی رکاوٹ سے نمٹنے کے لیے پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے تاجروں اور گڈز ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد نے اضافی مال منگوانا شروع کردیا ہے۔
تاجروں کا مقصد ممکنہ طور پر سڑکوں کی بندش یا ترسیل میں رکاوٹ کے دوران مارکیٹ میں ضروری اشیاء کی دستیابی برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب متوقع لانگ مارچز کے پیش نظر کیپیٹل سٹی پولیس سمیت خیبر پختونخوا پولیس نے بھی سکیورٹی انتظامات سخت کرنا شروع کردیئے ہیں۔
ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات کی سکیورٹی کے لیے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی صورتحال میں امن و امان برقرار رکھا جاسکے۔
یاد رہے کہ آئندہ چند روز کے دوران مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے، جس کے اعلانات ہوتے ہی اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی بین الصوبائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔