امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق کی خبروں کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جہاں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 4 فیصد تک گر گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات نے توانائی کی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈالا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 4 ڈالر فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 83.70 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 3.75 ڈالر سستا ہو کر 80.76 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تیل کی قیمتیں صرف طلب اور رسد سے ہی متاثر نہیں ہوتیں بلکہ جغرافیائی سیاسی حالات بھی ان پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری اور ممکنہ معاہدے کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی پیدا کی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں فروخت کا رجحان بڑھا اور قیمتیں نیچے آ گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو ایران کی تیل برآمدات میں اضافہ ممکن ہے، جس سے عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی بہتر ہوگی۔ سپلائی میں اضافے کے امکانات کے باعث مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تیل مارکیٹ اب بھی جغرافیائی سیاسی خبروں کے زیرِ اثر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، عالمی اقتصادی نمو اور بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیوں کے باعث آنے والے دنوں میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔
سرمایہ کار اور توانائی کمپنیاں اب امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔