• اشتہار کے لیے رابطہ
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کیجئے
  • اخبار
  • 0912584506
  • 93008563368+
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سیاست
  • بین الاقوامی
  • علاقائی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
  • آئین اخبار
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سیاست
  • بین الاقوامی
  • علاقائی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
  • آئین اخبار
خیبرپختونخوا

پشاور ہائی کورٹ نے 24 سرکاری ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف درخواستیں مسترد کر دیں

irshad
Share
SHARE

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے 24 سرکاری ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آؤٹ سورس کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف دائر چھ آئینی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی حکومتی پالیسی آئین اور قانون کے مطابق ہو تو عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

رٹ درخواستوں کی سماعت پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید شامل تھیں، نے کی۔ 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجاز انور نے تحریر کیا۔

درخواستیں گزشتہ سال متعدد شہریوں اور وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جن میں جمال ناصر اور نعمان یوسف سمیت دیگر شامل تھے۔ درخواست گزاروں نے خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے 24 سرکاری ہسپتالوں کی انتظامی آؤٹ سورسنگ کے لیے جاری کیے گئے اظہارِ دلچسپی (EOI) کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ سے غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے سستی اور مفت طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور اس اقدام سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب صوبائی حکومت اور خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کی جا رہی بلکہ صرف انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے آؤٹ سورسنگ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی ملکیت، نگرانی اور پالیسی کنٹرول حکومت کے پاس ہی برقرار رہے گا جبکہ مریضوں کو سرکاری پالیسی کے مطابق مفت علاج اور طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اعلیٰ عدلیہ متعدد مواقع پر یہ اصول طے کر چکی ہے کہ پالیسی سازی حکومت کا اختیار ہے اور عدالتیں صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتی ہیں جب کوئی پالیسی آئین یا قانون سے متصادم ہو۔ فیصلے میں سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پالیسی معاملات میں تکنیکی مہارت، وسائل کی تقسیم اور انتظامی ترجیحات جیسے پیچیدہ عوامل شامل ہوتے ہیں جن کا تعین حکومت کا کام ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات، انتظامی اصلاحات اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق فیصلے حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں جبکہ عدلیہ کا کردار قانون کی تشریح اور اس کے نفاذ تک محدود ہے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ سے عوام کو بہتر طبی سہولیات ملیں گی یا نہیں، اس کا جائزہ لینا اور اس کے نتائج کا تعین کرنا صوبائی حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ صحت کے شعبے سے متعلق ایسے معاملات خصوصی نوعیت کے حامل ہیں جن میں تکنیکی اور انتظامی مہارت درکار ہوتی ہے، جبکہ متعلقہ ماہرین اس منصوبے کی سفارش کر چکے ہیں۔

بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ حکومتی اقدام سے ان کے کسی بنیادی، آئینی یا قانونی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اسی طرح حکومتی فیصلے میں کسی قسم کے امتیاز، بدنیتی یا من مانی کے شواہد بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔

ان وجوہات کی بنیاد پر پشاور ہائی کورٹ نے تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے حکومت کے آؤٹ سورسنگ پروگرام کے خلاف عدالتی مداخلت سے گریز کیا۔

نوشہرہ: قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج مریض کی اہلیہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کی کوشش، تین سیکیورٹی گارڈز کے خلاف مقدمہ درج
ٹک ٹاک پر پابندی کی درخواست: پشاور ہائیکورٹ نے نئی ریگولیٹری اتھارٹی سے رپورٹ طلب کر لی
خیبرپختونخوا فنانس بل پیش، نئے ٹیکسوں کے بجائے ریلیف اقدامات؛ کاروبار، گاڑیوں اور خدمات پر ٹیکس شرحیں مقرر
اکتوبر احتجاج کیس: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے وارنٹِ گرفتاری برقرار
وکلاء کو مزاحمت کا پیغام، شفاف ٹرائل نہ ہوا تو ملک گیر ہڑتال کریں گے: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا
Share This Article
Facebook Email Print

Follow US

Find US on Social Medias
1.3kLike
XFollow
YoutubeSubscribe
TelegramFollow
تازہ ترین
خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا کا بجٹ اسٹریٹیجی پیپر جاری، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کرنے کی تجویز

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کی ازسرِنو تشکیل کیلئے نیا قانون متعارف
گلگت بلتستان  اسمبلی کی 24 نشستوں کیلئےانتخابی میدان سج گیا
بجٹ؛ تنخواہ دار طبقے کیلیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافے کا امکان
چین کی ثالثی میں پاک افغان مذاکرات میں بڑی پیش رفت، جنگ بندی پر اتفاق

زمرے

  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • سیاست
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل

ہمارے بارے میں

روزنامہ آئین ایک باوثوق، مستند اور اہم خبروں پر مبنی کثیر الاشاعت اخبار ہے جو خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں بڑے شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ یہ اخبار آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) سے باقاعدہ طور پر تصدیق شدہ ہے اور پشاور و اسلام آباد سے بیک وقت بلاتعطل شائع ہو رہا ہے،

اہم روابط

  • اخبار
  • اشتہار کے لیے رابطہ
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کیجئے
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • دستبرداری

سماجی رابطے

  • ہمارا فیس بک پیج
  • ہماری ٹویٹر پروفائل
  • ہماری انسٹاگرام پروفائل

سماجی رابطے

  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • بین الاقوامی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
Copyright © 2026, Daily Aeen. Designed & Developed by Pixel Pro
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?