پشاور میں تین منزلہ نجی اسکول کی چھت گرنے سے متعدد بچوں اور ایک خاتون ٹیچر سمیت 33 افراد جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق نجی اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ دیر کالونی میں پیش آیا جس میں متعدد بچے ملبے تلے دب کر زخمی ہوگئے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اسپتال میں 33 لاشیں لائی گئیں
ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ کئی زخمی بچوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 7 سے 13 سال کے درمیان ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دیر کالونی کے علاقے میں واقع الخیر اسکول سسٹم کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں متعدد بچے چھت تلے دب گئے، جن میں جاں بحق ہونے والوں کے علاوہ 50 سے زیادہ زخمی بھی شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایمبولینسز اور ڈیزاسٹر وہیکلز نے موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائیاں کیں۔ 8 سے زائد زخمی بچوں کو ابتدائی طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے اسپتال منتقل کیا گیا۔
بعد ازاں ریسکیو 1122 نے ایمبولینسز کے ذریعے 40 سے زائد زخمی طلبہ اور اساتذہ کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا۔
اسپتال انتظامیہ نے پہلے 6 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی، جبکہ مزید زخمیوں کی اسپتال منتقلی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
بعد ازاں اسپتال ذرائع نے چھت گرنے کے واقعے میں 33 ہلاکتوں کی تصدیق کردی، جن میں بچے اور 2 خواتین ٹیچرز شامل ہیں، جن کی شناخت 25 سالہ ثمرین اور 27 سالہ مہوش کے نام سے ہوئی ہے۔
ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال محمد عاصم کے مطابق پہلے 17 بچوں کو مردہ حالت میں ایل آر ایچ لایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صورت حال اور بچوں کی لاشیں دیکھ کر اسپتال کی انتظامیہ بھی غمزدہ ہے، جہاں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم کچھ زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
ترجمان کے مطابق تمام بچوں کی عمریں 13 سال تک ہیں جب کہ ایک خاتون ٹیچر کو بھی مردہ حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید نے کہا ہے کہ متاثرہ اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول کی چھتیں خستہ بنائی گئی تھیں۔ اس افسوس ناک واقعے پر مقدمہ درج ہوگا۔
سی سی پی او کے مطابق اسکول تنگ گلیوں میں بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے ریسکیو میں بھی مشکلات پیش آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول میں 110 بچے زیر تعلیم تھے۔
دیر کالونی پشاور میں نجی اسکول کی عمارت گرنے کے واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی زندگی کے بازی ہار گئے پانچوں بچے آپس میں قریبی رشتے دار تھے۔
دیر کالونی کے رہائشی منگل خان کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں اس کا 9 سالہ بچہ عامر خان جبکہ اس کی بھتیجی رومیسا جاں بحق ہوگئی، جاں بحق عامر اور رومیسہ دونوں اسی سکول میں پڑھ رہے تھے۔
بچی کے چچا کا کہنا ہے کہ اس کے دیگر تین رشتہ دار بھی اس حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ اسکول کی عمارت جب گرگئی تو انہیں اطلاع ملی اور وہ امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے پہنچ گئے تاہم کچھ دیر بعد انہیں اطلاع ملی کہ اس کے گھر کے بچے اسپتال میں ہیں اور وہ جاں بحق ہوگئے ہیں۔
جاں بحق بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے جس میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔