ضلع باجوڑ میں مبارک زیب خاندان کا تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا، حاجی مانڑو نے الزام عائد کیا ہے کہ ایم این اے مبارک زیب خان جرگے کے فیصلے اور طے پانے والے تصفیے سے مکر گئے ہیں۔
حاجی مانڑو کے مطابق تنازع کے حل کیلئے تشکیل دیے گئے چار رکنی جرگے نے فریقین کے درمیان معاملہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم ان کے بقول جرگے کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
حاجی مانڑو نے دعویٰ کیا کہ چار رکنی جرگے کے فیصلے کے تحت میاں گان قوم کو 3 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جانی تھی اور اس کے ذریعے تنازع کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بعد ازاں ایم این اے مبارک زیب خان اس فیصلے اور تصفیے سے پیچھے ہٹ گئے۔
حاجی مانڑو نے کہا ہے کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو 18 ستمبر سے دھرنا دیا جائے گا۔ ان کے مطابق احتجاج کا آغاز خار بازار چوک سے کیا جائے گا، جبکہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھی دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
حاجی مانڑو نے دعویٰ کیا کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری مبارک زیب خان اور ان کے سیکرٹریز پر عائد ہوگی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جرگے کے فیصلے اور طے پانے والے تصفیے پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ معاملے کو مزید کشیدگی سے بچایا جاسکے۔
دھرنے کے اعلان کے بعد باجوڑ میں مقامی سطح پر اس تنازع اور آئندہ کے لائحہ عمل پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔