خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل کے بہتر استعمال، صوبائی آمدن میں اضافے اور مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے 20 کروڑ ڈالر کے پروگرام پر پیش رفت ہوئی ہے جسے ورلڈ بینک کے پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسو ڈویلپمنٹ ملٹی فیز پروگرامٹک اپروچ کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے قرض لینے کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد اب عالمی بینک کے بورڈ سے اس کی آئندہ ماہ منظوری کا امکان ہے
ورلڈ بینک کی دستاویز کے مطابق یہ پروگرام محض ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرض فراہم کرنے کے بجائے صوبائی اور وفاقی سطح پر مالیاتی نظام میں اصلاحات، ریونیو بڑھانے، سرکاری اخراجات کو موثر بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق منصوبے کے تحت مختلف مراحل میں وفاق اور صوبوں کے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
مرکزی پروگرام کی دستاویز میں خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کو آئندہ مراحل میں شامل کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اپنے حصے کے پروگرام کی لاگت 20 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق پروگرام کے اہم مقاصد میں حکومت کی آمدن میں اضافہ، ٹیکس اور ریونیو وصولی کے نظام کو بہتر بنانا، سرکاری اخراجات کو ترجیحات کے مطابق استعمال کرنا، مالیاتی انتظام میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانا اور جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سرکاری مالیاتی و انتظامی معلومات کو بہتر بنانا شامل ہے۔
ورلڈ بینک کے پروگرام میں مالیاتی اصلاحات کو نتائج سے منسلک کرنے کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف اصلاحاتی اہداف اور کارکردگی کے اشاریے مقرر کیے جاتے ہیں۔
ان اہداف کی تکمیل کے بعد ہی پروگرام کے تحت مالی معاونت جاری کرنے کا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ٹیکس اصلاحات، سرکاری اخراجات میں بہتری، پبلک پروکیورمنٹ، مالیاتی ڈیٹا اور سرکاری وسائل کے انتظام کو اہم قرار دیا گیا ہے۔