پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے 2013 سے صوبے میں معاشی استحکام، شفافیت اور پائیدار ترقی کے لیے تاریخی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ عوامی فلاح، سماجی تحفظ، پسماندہ اضلاع کی ترقی، گرین اکانومی اور ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عالمی معاشی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود صوبائی حکومت نے محدود وسائل میں رہتے ہوئے عوامی خدمت، مالی نظم و ضبط، کفایت شعاری اور گڈ گورننس کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کا محور کمزور اور متوسط طبقے کو ریلیف، معیاری خدمات کی فراہمی اور ترقی کے ثمرات کو ہر شہری تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں عوام نے ایک بار پھر تحریک انصاف کے وژن پر اعتماد کا اظہار کیا، جس کے بعد صوبائی حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے اقدامات جاری رکھے۔
محصولات میں نمایاں اضافہ
وزیراعلیٰ کے مطابق خیبرپختونخوا نے مالی سال 2025-26 میں محصولات کے شعبے میں اہم کامیابی حاصل کی۔ صوبے نے ایک ماہ کے دوران 201 ارب روپے کے محصولات جمع کیے، جن میں ٹیکس محصولات 69.7 ارب روپے اور نان ٹیکس محصولات 32.3 ارب روپے شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے محصولات 43.698 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ نان ٹیکس آمدن بھی 32.293 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو صوبہ مقررہ محصولات ہدف حاصل کر لے گا۔
تعلیم کے شعبے میں اقدامات
وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ رواں مالی سال اسکولوں میں فرنیچر کی فراہمی کے لیے 7 ارب روپے جاری کیے گئے، جبکہ 1100 اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 100 نئے پرائمری اسکول تعمیر کیے گئے، متاثرہ اسکولوں کی بحالی کا عمل جاری ہے، جبکہ ضم اضلاع کے 10 ہزار طلبہ و طالبات میں وظائف تقسیم کیے گئے۔ اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے 10 ہزار سے زائد پرائمری اساتذہ کی بھرتی کی منظوری دی گئی جبکہ 2500 ایجوکیشن انٹرنز شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سیلاب متاثرین کے لیے 92 ارب روپے سے زائد امداد
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے 92.4 ارب روپے جاری کیے گئے۔ متاثرہ خاندانوں، زخمیوں، گھروں، دکانوں، مویشیوں اور فصلوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی۔
امن و امان اور پولیس کے لیے اقدامات
سہیل آفریدی نے بتایا کہ پشاور سیف سٹی منصوبہ مکمل فعال کر دیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں بھی منصوبے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے پولیس شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء پیکج میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال میں 151 شہداء اور 155 زخمی اہلکاروں کے لیے مجموعی طور پر 1.63 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں معاشی ترقی کے ثمرات ہر شہری تک پہنچیں، جبکہ ڈیجیٹلائزیشن، ای گورننس، شفافیت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ذریعے صوبے کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے۔