سہیل آفریدی نے مانسہرہ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سیکیورٹی، سیاست اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کی تقریر میں صوبے کی موجودہ صورتحال، دہشتگردی کے خدشات اور وفاقی و سیاسی معاملات پر کھل کر مؤقف پیش کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ محمد ادریس کے قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب پہلے دہشتگردی کے خطرے کی نشاندہی کی گئی تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، بلکہ اسے جھوٹ قرار دیا گیا۔ تاہم اب جب حالات بگڑ چکے ہیں اور معصوم شہری نشانہ بن رہے ہیں تو آپریشن کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا کو “تجربات کی لیبارٹری” بنایا جا رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام اور غریب عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
جلسے کے دوران وزیراعلیٰ نے ہزارہ ڈویژن کے لیے 200 ارب روپے کے بڑے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا۔
اپنی تقریر میں انہوں نے ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کیا گیا اور کم نشستیں حاصل کرنے والی جماعتوں کو اقتدار میں لایا گیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں، ورنہ ظلم و جبر کا سلسلہ جاری رہے گا۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے ہر فیصلے کی پابندی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سلمان صفدر کے ذریعے عمران خان کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ وہ اور ان کی جماعت ہر وقت تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہدایت ملی تو وہ پورے ملک میں احتجاج یا شٹر ڈاؤن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عمران خان کی قید کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان سے ملاقات کے آئینی و قانونی راستے استعمال کیے گئے، لیکن ان کی فیملی اور ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دی جا رہی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تمام آئینی اور قانونی راستے بند کر دیے جائیں تو احتجاج ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے لیڈر کے ساتھ “کندھے سے کندھا ملا کر” کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے پہلی بار ایک مڈل کلاس شخص کو وزارتِ اعلیٰ کا منصب دیا، اور وہ اس اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔