پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے غیر ملکی میڈیکل گریجویشن کو ڈی لسٹ کرنے کے اعلامیہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے افغانستان اور دیگر یونیورسٹیوں سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے طلبا کے ڈگریوں کو درست قرار دیا۔ رٹ درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے کیس کی پیروی فواد الرحمان ایڈوکیٹ نے کی۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزاروں نے اپنی تعلیم اس وقت مکمل کی جب افغانستان کی جامعات کا پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ساتھ باقاعدہ طور پر الحاق تھا اور یہ ڈگریاں تسلیم شدہ ہوتی تھیں تاہم بعد ازاں 8 ستمبر 2025 کو ایک اعللامیہ جاری کیا گیا جس کے بعد ان اداروں کو ڈی لسٹ کیا گیا جس کے باعث ان گریجویٹس س کو پاکستان میں میڈیکل پریکسٹس کے لئے عارضی رجسٹریشن ( پی آر ایم پی) حاصل کرنے کے لئے نیشنل رجسٹریشن امتحان ( این آر ای) میں شرکت سے روک دیا گیا عدالت نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی انتظامی حکم کو ماضی سے لاگو کرنا بنیادی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے، خاص طور پر جب متاثرہ افراد نے اپنی تعلیم اس وقت مکمل کی ہو جب متعلقہ ادارے تسلیم شدہ تھے۔فاضل بنچ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کو کالعدم قرار دیا۔