پشاور (ویب ڈیسک) عالمی سطح پر اہم بحری گزرگاہ Strait of Hormuz میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں برطانوی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) کی دو گن بوٹس نے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کی ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ 18 اپریل کو پیش آیا جب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو انڈین ٹینکرز کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا بڑے نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
برطانوی فوج، جسے British Armed Forces کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اس واقعے کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک خطرناک علامت قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس طرح کے واقعات عالمی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس اہم گزرگاہ میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مزید تفصیلات کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، میں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔