خیبرپختونخوا میں جاری میٹرک امتحانات کے دوران انگلش پرچے کے لیک ہونے کا معاملہ سنگین شکل اختیار کر گیا ہے، جس نے نہ صرف امتحانی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پشاور، ڈی آئی خان، مردان اور دیگر اضلاع میں دسویں جماعت کا انگلش پرچہ امتحان کے دوران ہی لیک ہو گیا۔ امتحانی مراکز میں موجود طلبہ اپنے پیپر حل کرنے میں مصروف رہے، جبکہ دوسری جانب یہی پرچہ مختصر وقت میں بازاروں اور سوشل میڈیا پر حل شدہ حالت میں دستیاب ہو گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیپر شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد مختلف واٹس ایپ گروپس اور دیگر ذرائع پر حل شدہ پرچہ گردش کرنے لگا، جس سے یہ شبہ مزید مضبوط ہو گیا کہ امتحانی نظام کے اندر سے ہی معلومات لیک کی جا رہی ہیں۔تعلیمی حلقوں کے مطابق اس واقعے میں ایک منظم نقل مافیا کے ملوث ہونے کے امکانات ہیں، جو ہر سال امتحانات کے دوران سرگرم ہو جاتا ہے اور بھاری معاوضے کے عوض طلبہ کو حل شدہ پرچے فراہم کرتا ہے۔ اس مافیا کی وجہ سے نہ صرف میرٹ کا قتل ہوتا ہے بلکہ محنتی طلبہ کی حق تلفی بھی ہوتی ہے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے طلبہ میں بددلی اور مایوسی پیدا ہوتی ہے، کیونکہ محنت کرنے والے اور نقل کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کے درمیان فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ صورتحال تعلیمی بورڈز اور محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر بھی بڑا سوالیہ نشان ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی مختلف امتحانات میں پرچے لیک ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم اس بار ایک ہی وقت میں متعدد اضلاع میں پرچہ لیک ہونا سیکیورٹی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں:پرچہ تیار کرنے اور تقسیم کے نظام کو مکمل طور پر خفیہ اور محفوظ بناناامتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا نظام نافذ کرنانقل مافیا کے خلاف کریک ڈان اور سخت سزائیں دیناملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائیعوامی حلقوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے اور طلبہ کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔