رپورٹ۔ ارشاد علی
د نیا بھر میں ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کے درمیان ویب سمٹ ایک ایسی بین الاقوامی کانفرنس بن چکی ہے جو جدید رجحانات، جدت اور کاروباری مواقع کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سرمایہ کار، اسٹارٹ اپس، ٹیک ماہرین اور بڑی کمپنیوں کے نمائندے اس ایونٹ میں شرکت کرتے ہیں۔ویب سمٹ کی ابتدا آئرلینڈ کے شہر لزبن میں ہوئی تھی، جہاں یہ ایونٹ بہت تیزی سے دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کانفرنسوں میں شامل ہو گیا۔ حالیہ برسوں میں اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہوا ہے اور اب یہ مشرق وسطی سمیت دیگر خطوں میں بھی منعقد کیا جا رہا ہے، خاص طور پر قطر میں ہونے والا ویب سمٹ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔2026 میں منعقد ہونے والے ویب سمٹ قطر میں 30 ہزار سے زائد شرکا نے شرکت کی، جس میں مصنوعی ذہانت (AI)، فِن ٹیک، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل معیشت جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایونٹ نہ صرف ٹیکنالوجی کے مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے بلکہ نئی کمپنیوں کو سرمایہ کاروں تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔ویب سمٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہاں چھوٹے اسٹارٹ اپس کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملتا ہے۔ کئی ایسی کمپنیاں جو آج بڑی ٹیک کمپنیوں میں شمار ہوتی ہیں، انہوں نے اپنی پہچان اسی پلیٹ فارم سے بنائی۔مزید برآں، ویب سمٹ دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطی میں اس کے انعقاد نے اس خطے کو ٹیکنالوجی کے نئے مرکز کے طور پر ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ماہرین کے مطابق آنے والے سالوں میں ویب سمٹ کی اہمیت مزید بڑھے گی، کیونکہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور ایسے پلیٹ فارمز کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔مختصرا، ویب سمٹ نہ صرف ایک کانفرنس بلکہ ایک عالمی تحریک بن چکا ہے جو ٹیکنالوجی، کاروبار اور جدت کو ایک نئی سمت دے رہا ہے۔