مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل 0.4 فیصد اضافے کے بعد 85.28 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 80.02 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو عالمی توانائی مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے خام تیل کی برآمدات محدود ہوئیں یا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عالمی افراطِ زر، ایندھن کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر اضافی مالی بوجھ کا سبب بن سکتا ہے۔