امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 2 روز قبل کراچی سے شروع ہونے والا ‘سپر لانگ مارچ’ مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔
ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ “وزیراعظم کے پہلے رابطے پر خیرسگالی کے تحت لانگ مارچ چند روز کے لیے روک رہے ہیں۔”
اس سے قبل ایکس پر جاری ایک بیان میں جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ کیا اور ”درخواست کی کہ مارچ کچھ دن ملتوی کردیں۔”
جماعت اسلامی کا مارچ اتوار کو کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوا تھا۔ اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا تھا کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک کو حکومت کے خلاف تحریک میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق وزیراعظم نے حافظ نعیم الرحمان سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے اور وہ وطن واپسی پر ان سے ملاقات کرکے عوام کے لیے مزید بہتر ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے۔
تاہم بیان میں بتایا گیا کہ حافظ نعیم الرحمان نے “وزیراعظم کو کہا ہے کہ آپ کی درخواست پر لانگ مارچ میں چند دن کے وقفے کے بارے میں جماعت کی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کروں گا۔”
جماعت اسلامی سے رابطے کی تصدیق وزیر اعظم آفس سے جاری ایک بیان میں بھی کی گئی جس میں کہا گیا کہ “امیر جماعت اسلامی نے وزیرِ اعظم کی تجویز کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی دھرنا مؤخر کرنے پر غور کر رہی ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ “دونوں رہنماؤں نے وزیرِ اعظم کے دورے کے بعد ملاقات کرنے اور اس امر پر مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔”
پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے رابطے کے بعد پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے لانگ مارچ اور احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے، دھرنے اور کیمپ جاری رکھیں گے، اور وزیراعظم کے پہلے رابطے پر خیرسگالی کے تحت ملتان میں پڑاؤ کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ “کل وزیر اعظم نے فون پر کہا اپنے لانگ مارچ کو ملتوی یا مؤخر کریں، وزیر اعظم کو بتایا عوام پریشان ہیں، ہمیں احتجاج کا کوئی شوق نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا وہ بیرون ملک ہیں، آؤں گا تو ریلیف دوں گا۔ آج طویل مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ لانگ مارچ سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔”
مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم االرحمان نے کہا کہ وہ “صرف وزیر اعظم سے ملاقات کا موقع دے سکتے ہیں۔ ہم اپنی احتجاجی تحریک سے دستبردار نہیں ہوں گے، اگر حالات خراب ہیں تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ ہمارے دھرنے واحتجاجی کیمپ جاری رہیں گے۔ ہم نے اے بی سی پلان بنا رکھا ہے، صرف ایک جگہ سے اسلام آباد داخل نہیں ہوں گے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم نے اگر ریلیف دیا تو ٹھیک ورنہ لانگ مارچ جاری رہے گا۔ ملتان میں ہمارا پڑاؤ ہے، ریلیف نہ ملنے کی صورت میں لانگ مارچ آگے بڑھے گا۔