جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے، تاہم 2 صوبوں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔ خیبر پختونخوا میں عملاً حکومت موجود نہیں، جبکہ ہم سے بھی بھتہ طلب کیا جاتا ہے۔ میرے بیٹوں اور بھتیجوں پر حملے ہوئے، کیونکہ ہم بھتہ نہیں دیتے۔
لاہور میں سینئر صحافیوں سے سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں نے 2 مرتبہ پارلیمنٹ میں ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، تاہم اسے منظور نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں نہ پاکستانی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور نہ ہی بیرون ملک سے سرمایہ کار آ رہے ہیں۔
ہماری تجارت کا انحصار وسط ایشیا پر تھا، لیکن اب یہ تجارت بھی رک گئی ہے۔ پاکستان سے وسط ایشیا جانے والی سبزیوں اور پھلوں کی تجارت بھی ختم ہو چکی ہے۔