وینزویلا میں چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں ہلاکتوں کی تعداد 1
ہزار سے تجاوز کرنے کے امکانات 44 فیصد ہیں جس کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ ۔
قیامت خیز زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 188 ہوگئی، 1 ہزار سے زائد زخمی
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 4 منٹ پر وینزویلا کے شمالی ساحلی علاقے کے قریب آئے۔ پہلے زلزلے کی شدت 7.2 جبکہ صرف 39 سیکنڈ بعد آنے والے دوسرے زلزلے کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلوں کا مرکز دارالحکومت کراکس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں واقع مورون کے علاقے کے نزدیک تھا۔
شدید جھٹکوں کے باعث کراکس سمیت متعدد شہروں میں عمارتیں منہدم ہو گئیں اور خوفزدہ شہری گھروں، دفاتر اور تجارتی مراکز سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
حکام نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے اسپتالوں، ریسکیو اداروں اور سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے جس کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ میٹرو سروس اور تعلیمی ادارے بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے خبردار کیا ہے کہ زلزلوں کے باعث جانی و مالی نقصان میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ ادارے کے ابتدائی تخمینے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچنے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم حتمی اعداد و شمار ریسکیو کارروائیوں کی تکمیل کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
ادھر امریکا سمیت متعدد ممالک نے وینزویلا کو امدادی تعاون کی پیشکش کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ زلزلے گزشتہ ایک صدی کے دوران وینزویلا میں آنے والے شدید ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جن کے اثرات ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ پڑوسی ملک کولمبیا تک محسوس کیے گئے۔