وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کے بعد ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے اس پیش رفت کو خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور سفارتی عمل کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں لبنان سمیت دیگر علاقوں میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنانے میں اہم سفارتی معاونت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی مستقل طور پر سفارت کاری، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے یہ پیش رفت ایک حتمی معاہدے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فخر ہے کہ اس نے اس مشکل دور میں ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی اور بین الاقوامی جہازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا جبکہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی بھی فوری طور پر ختم کر دی جائے گی۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے امن کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سفارتی ٹیموں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے۔
معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی توانائی منڈی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 3.8 فیصد کمی کے بعد 84.02 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس معاہدے کو تنازع کے پرامن حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کو مبارکباد دی۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے بھی مشترکہ بیان میں معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران قابل تصدیق اقدامات کرتا ہے تو پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان، قطر کے وزیراعظم اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کو فروغ ملے گا۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد جمعے سے شروع کرے گا تاہم حتمی معاہدے کے لیے آئندہ 60 روز تک مذاکرات جاری رہیں گے۔ ان مذاکرات میں بنیادی توجہ پابندیوں کے خاتمے، اقتصادی رکاوٹوں کو دور کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی پر مرکوز ہوگی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ پیش رفت کئی برسوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔