امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مجوزہ امن معاہدے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے پر آج دستخط ہوسکتے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے اس ٹائم لائن سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ آئندہ چند دنوں میں طے پانے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدے کی دستاویز آخری مراحل میں ہے اور دستخط کے بعد آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مزید اقدامات بعد کے مذاکرات میں زیر غور آئیں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ابھی کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا اور دستخط کی تاریخ کے بارے میں فیصلہ باقی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید مشاورت درکار ہے۔
علاقائی صورتحال کے حوالے سے ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر خطے میں جامع جنگ بندی مقصود ہے تو اس کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے۔ ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی نظریں بھی ان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ برسوں کی ایک بڑی سفارتی پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے، جس کے عالمی تیل کی منڈیوں، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔