ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں بھی افغان مہاجرین کو نکالنے کیلئے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے،حکومتی احکامات کے مطابق گھمگول مہاجر کیمپ کوہاٹ میں مقامی انتظامیہ نے مہاجرین کو چوبیس گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے کہ اس دوران وہ خود اپنے مکانات مسمار کرکے علاقہ خالی کردیں، ورنہ کارروائی کی جائے گی۔
گھمگول مہاجر کیمپ 1978 میں بنا تھا، جو کہ پہاڑی علاقے میں ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جہاں قریبا پچاس ہزار افراد رہتے تھے۔مقامی انتظامیہ کی جانب سے حالیہ کاروائیوں کے بعد ان تین کیمپوں میں چالیس ہزار افراد مقیم ہیں، جبکہ دس ہزار افراد حالیہ کاروائیوں کے بعد افعانستان واپس جا چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے بعد اب بیشتر افغان مہاجرین واپس جانا چاہتے ہیں، لیکن اگر ان کیلیے مناسب انتظام کیا جائے تو آسانی ہوگی۔ ان کے بقول زیادہ تر مہاجرین اس خوف کا شکار ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ یہاں سے وہ چل پڑیں اور آگے طورخم کی سرحد بند ہو اور ان کے ہمراہ خواتین اور بچے ہوں اور پھر بارشوں میں کھلے آسمان تلے سخت حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔