امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگی اختیارات سے متعلق امریکی سینیٹ کی حالیہ ووٹنگ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’بے وقت‘‘ اور ’’بے معنی‘‘ قرار دیا ہے۔ سینیٹ کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد نے واشنگٹن میں ایران پالیسی اور فوجی اختیارات کے حوالے سے نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ نے 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی جس میں ایران کے خلاف جاری یا ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگی اختیارات کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اگرچہ اس قرارداد کو بڑی حد تک علامتی حیثیت حاصل ہے، تاہم اسے وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں کے حوالے سے ایک اہم سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور امریکی حکمت عملی کے نتیجے میں کمزور پوزیشن میں پہنچ چکا ہے، لیکن ایسے حساس مرحلے پر سینیٹ کی جانب سے جنگی اختیارات سے متعلق ووٹنگ انتہائی نامناسب اقدام ہے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا، ’’میرے پاس ایران کو گھیرنے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کا موقع موجود تھا، لیکن امریکی سینیٹ نے ایک بے وقت اور بے معنی وار پاورز ایکٹ ووٹ کر دیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بعض سینیٹرز کے اس اقدام نے ان کی پالیسی پر عمل درآمد کو مشکل بنا دیا ہے، تاہم وہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’یہ سینیٹرز میرا کام مشکل ضرور بنا سکتے ہیں، لیکن میں ایک نہ ایک طریقے سے اسے مکمل کر کے رہوں گا، کیونکہ میں ہمیشہ اپنے مقاصد حاصل کرتا ہوں۔‘‘
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے معاملے پر امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان اختلافات پہلے سے زیادہ واضح ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔ ایک جانب صدر ٹرمپ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب کانگریس کے بعض ارکان فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار، قانونی جواز اور آئینی اختیارات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے تحت جنگی اختیارات کے معاملے پر صدر اور کانگریس کے درمیان اختیارات کی تقسیم ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہی ہے۔ حالیہ قرارداد بھی اسی بحث کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس میں کانگریس اپنی نگرانی اور منظوری کے کردار کو برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع آئندہ دنوں میں امریکی خارجہ پالیسی، ایران کے ساتھ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ میں واشنگٹن کی حکمت عملی پر مزید سیاسی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں اور ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی حالیہ ووٹنگ اگرچہ فوری طور پر امریکی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لاتی، تاہم اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکی سیاسی قیادت کے اندر اختلافات موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ موضوع امریکی سیاست کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔